اردوئے معلیٰ

Search

لکھ رہی ہوں نعت میں لے کر سہارا نور کا

میری سوچوں پر تو رہتا ہے اجارہ نور کا

 

آپ کے اوصاف ہیں اللہ کے قرآن میں

کر رہا ہے اُن کی مدحت پارہ پارہ نور کا

 

مہر و ماہ و کہکشاں میں آپ ہی کا نور ہے

بھیک دے کر آپ نے صدقہ اُتارا نور کا

 

جلوہ گر ہوتا تھا جو روح الامیں کے سامنے

آپ کے ماتھے پہ چمکا وہ ستارہ نور کا

 

چھٹ گئے سارے اندھیرے پھیلی ایسی روشنی

آ گئے بدر الدجٰی پھوٹا فوارہ نور کا

 

بحرِ ظلمت کے بھنور میں ڈوبنے کا ڈر نہیں

سامنے ہی مل گیا ہے اَب کنارا نور کا

 

ہے یہ حسرت بیٹھ جائیں اِن کے در کے سامنے

ہر گھڑی کرتے رہیں پھرہم نظارہ نور کا

 

نامِ احمد سے ملی ہے میرے دل کو روشنی

بھیک اِن کے نام کی ہے استعارہ نور کا

 

ناز سے ممکن کہاں تھی شاہِ عالَم کی ثنا

اس کی قسمت پاگئی پھر بھی اشارہ نور کا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ