اردوئے معلیٰ

لگاؤں ورثہ ء غم اس کے نام ، حاضر ہو

جسے عزیز ہے شہرت دوام حاضر ہو

 

کچھ ایسے ہجر میرے گھر طواف کرتا ہے

کہ جیسے شاہ کے آگے غلام حاضر ہو

 

یہ قسط وار ہیں جو غم مجھے قبول نہیں

مرے نصیب کا اب دکھ تمام حاضر ہو

 

تو پورا شہر آجائے گا گنگناتا ہوا

صدا لگاؤں گی اک خوش کلام حاضر ہو

 

میں تخت و تاج کا دربان ڈھونڈتی ہوں بس

جو اپنے کام سے رکھتا ہو کام ، حاضر ہو

 

اور اپنی سلطنت میں رہ گئی اکیلی میں

بس ایک یاد ہے جو صبح و شام حاضر ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات