اردوئے معلیٰ

Search

لگا کے داؤ پہ رکھنا یہ نیک نامی مری

تھی بدمزاج طبیعت کی پہلی خامی مری

 

گئی تھی دیکھنے میں رونقِ عدم آباد

وہاں پہ لکھ دی گئی شہریت مقامی مری

 

کہیں پہ رونا ہو ، میں قہقہے لگاتی ہوں

یہ کار روائی ہے اے شخص انتقامی مری

 

میں اپنی روشنی جس روز آشکار کروں

چراغ کرنے لگیں گے ترے ، غلامی مری

 

بس ایک وار میں بازو کٹا کے بیٹھی ہوں

مری شکست کا باعث تھی بے نیامی مری

 

میں ایک طشت میں لائی ہوں رکھ کے اپنی انا

قبول آپ کریں بھینٹ اب سوامی مری

 

پھر آج عالم وحشت میں اتنا بولی ہوں

ہر ایک شخص نے سن لی ہے خودکلامی مری

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ