لے آنکھ موند لی دمِ دیدار، اور حُکم ؟

لے آنکھ موند لی دمِ دیدار، اور حُکم ؟

اے پردہ داریٔ لب و رُخسار! اور حُکم ؟

 

فرماں تھا آپ کا کہ کروں اپنی سرزنش

میں سر ہی کاٹ لایا ہوں، سرکار! اور حُکم ؟

 

پہلو میں چاند لایا ہوں ، شیشے میں چاندنی

آوارگانِ قریۂ بیدار! اور حُکم ؟

 

تُو نے دیا تھا حُکم کہ میں جینا چھوڑ دوں

تعمیل ہو چکی ہے مرے یار! اور حُکم ؟

 

ضد تھی تری کہ کُھل کے بتاؤں میں دل کی بات

سو کر دیا ہے عشق کا اظہار، اور حُکم ؟

 

لیں ، رکھ دئیے ہیں آپ کی پاپوشِ پاک پر

دلق و گلیم ، خرقہ و دستار ، اور حُکم ؟

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عائشہ، علینہ، عائلین، دُعا اور عائسل کے لیے
دل جیسی کوئی صورت دِلّی میں نظر آئی
وہ بُھولا بسرا نام
یوں تو شہر میں دس مے خانے ہیں لیکن
نہ عشق میں نہ ریاضت میں دھاندلی ھُوئی ھے
جلوۂ ماہ ِ نو ؟ نہیں ؟ سبزہ و گل ؟ نہیں نہیں
اسی کے ہاتھ میں اب فیصلہ تھا،ہمارے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں تھا
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
جہان بھر میں کسی چیز کو دوام ہے کیا ؟
!بس ایک جلوے کا ہوں سوالی، جناب عالی

اشتہارات