ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا

ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا

اس وقت تیز دھوپ تھی یہ خواب جب کا تھا

 

کوئی نہ تھا کمال ، تمہارے فقیر میں

بس خانماں خراب کا لہجہ غضب کا تھا

 

دہلیز پر نثار کیا ، تاج دار سر

وہ حسن مستحق ہی نیاز و ادب کا تھا

 

جس کو سخن کے سحر نے خاموش کر دیا

یہ جادوئی کلام اسی جاں بلب کا تھا

 

تھے دس ارب نفوس ہی روئے زمین پر

سو مجھ سے اختلاف بھی دس ہی ارب کا تھا

 

سینے پہ اک ہوا نے ہی جھیلے شہابیے

یوں آب و گِل سے عشق کا دعوی تو سب کا تھا

 

آخر اتر گیا مرے حرفوں کی شاخ پر

جانے ہوا کے دوش پہ یہ شعر کب کا تھا

 

تیری تمام عمر سے پہلے بھی جنگ تھی

سینے کے عین وسط میں یہ چھید تب کا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ