ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا

ماحول خوابناک ، نہ ہی وقت شب کا تھا

اس وقت تیز دھوپ تھی یہ خواب جب کا تھا

 

کوئی نہ تھا کمال ، تمہارے فقیر میں

بس خانماں خراب کا لہجہ غضب کا تھا

 

دہلیز پر نثار کیا ، تاج دار سر

وہ حسن مستحق ہی نیاز و ادب کا تھا

 

جس کو سخن کے سحر نے خاموش کر دیا

یہ جادوئی کلام اسی جاں بلب کا تھا

 

تھے دس ارب نفوس ہی روئے زمین پر

سو مجھ سے اختلاف بھی دس ہی ارب کا تھا

 

سینے پہ اک ہوا نے ہی جھیلے شہابیے

یوں آب و گِل سے عشق کا دعوی تو سب کا تھا

 

آخر اتر گیا مرے حرفوں کی شاخ پر

جانے ہوا کے دوش پہ یہ شعر کب کا تھا

 

تیری تمام عمر سے پہلے بھی جنگ تھی

سینے کے عین وسط میں یہ چھید تب کا تھا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

ہمیں شعور جنوں ہے کہ جس چمن میں رہے
چاہے آباد ہوں، چاہے برباد ہوں، ہم کریں گے دعائیں تمھارے لئے
کوئی نہیں ھے یہاں جیسا خُوبرُو تُو ھے
مِرا تماشہ ہوا بس تماش بینو! اُٹھو
یہ میرا دل ہے کہ خالی پڑا مکاں کوئی ہے؟
کتنے چراغ جل اٹھے، کتنے سراغ مل گئے
دُھوپ میں جیسے پھول ستارہ لگتا ہے
خواب کدھر چلا گیا ؟ یاد کہاں سما گئی ؟
اذیت سب کا ذاتی مسئلہ ہے
ایک منظر ہے فروزاں دودھیا قندیل میں