اردوئے معلیٰ

ماحول کی تلخیاں بھلا کر

ماحول کی تلخیاں بھلا کر

پڑھ اُن پہ درود، فرض ادا کر

 

کر وردِ درود، سر جھکا کر

نظارۂ شہرِ مصطفیٰ کر

 

اُس در پہ ادب سے مانگ سب کچھ

خاموش لبوں سے التجا کر

 

اب دور سے دیکھتا ہوں گنبد

دیکھوں گا کبھی قریب جا کر

 

خالق ترے سب گناہ بخشے

تو مدحِ امامِ انبیا کر

 

اللہ سے مانگ، بعدِ مدحت

دیدارِ حضور کی دعا کر

 

اُس بارگہِ ادب میں اخترؔ

کونین کھڑے ہیں سر جھکا کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ