اردوئے معلیٰ

مانا کہ ہے سفر کا تقاضہ سبک روی

پر تیز رو جنون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

اب کون سوچنے کی مشقت کرے بھلا

جاؤ مرے فنون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

کاندھوں پہ جو بنامِ محبت دھرا گیا

بھاری ہے وہ ستون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

اک عمر ہو چلی ہے کہ زخموں پہ ہاتھ ہے

رکتا نہیں ہے خون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

ہر گام تازیانہِ قسمت کا خوف ہے

غارت گرِ سکون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

زیرِ زمینِ خواب ، سرنگوں کا سلسلہ

اور اس کے اندرون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

ہر پرت کے تلے ہے نئی پرت کرب کی

کھلتے نہیں فسون ، تھکا جا رہا ہوں میں

 

ظاہر زبانِ حال سے ہر اک شکست ہے

ائے حالتِ زبون ، تھکا جا رہا ہوں میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات