مانگا جو قطرہ بحرِ کرم نام کر دیا

مانگا جو قطرہ بحرِ کرم نام کر دیا

کاسہ مِرے کریم نے رحمت سے بھر دیا

 

اوج و کمال، مرتبہ، عظمت، یہ مال و زَر

جو کچھ دیا نبی نے مجھے معتبر دیا

 

کرتا ہوں مِدحتیں میں شہِ خوش خصال کی

خوش بخت ہوں کہ رب نے مجھے یہ ہنر دیا

 

آ جائے یہ پیام بھی اے شاہِ دو جہاں

اِذنِ حضوری دی تجھے جنت میں گھر دیا

 

کیسے بھٹک سکے گی یہ مخلوق راہ سے

جب کہ خُدا نے رہبروں کا راہبر دیا

 

راحت کے ہیں سفینے رضاؔ کے نصیب میں

دیکھو نبیء پاک نے وہ چارہ کر دیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

خُداوندا! مرا دِل شاد رکھنا
فراق و ہجر کا دورانیہ ہو مختصر، آقاؐ
انسانیت پہ رب کا احسان ہیں محمدﷺ
حاصل جسے نبیﷺ کی محبّت کی ڈھال ہو
آنکھ پتھرائی ہُوئی ہے اب کہیں اندر اُتر
نظر کا دھوکہ ہے نام و نمود لا موجود
تری ثنا سے مرا عصرِ حال تابندہ
خوش ہوں کہ پسِ مرگ یہ پہچان رہے گی
رسولِ ہاشمی کا جو بھی شیدا ہو نہیں سکتا
نبی سے محبت ہے ایمان کامل