اردوئے معلیٰ

ماں کی عظمت

محبتوں کا حسیں آبشار ہے مادر
علاج گردش لیل و نہار ہے مادر
خزاں کی رت میں نسیم بہار ہے مادر
عظیم نعمت پروردگار ہے مادر

پڑی ہے رب کی رضایت بھی ماں کے قدموں میں
ملے گی دولت جنت بھی ماں کے قدموں میں

جہاں میں ہستئ صد ذی وقار ہے مادر
جہان میں شجر سایہ دار ہے مادر
میرا یقین مرا اعتبار ہے مادر
مری حیات کا دارو مدار ہے مادر

وہ جس مکان میں موجود ماں کی ہستی ہے
وہاں پہ رحمت رب علا برستی ہے

پڑھی کتاب الہی تو میں نے یہ جانا
کلام، رب کا ہے جام_ ہدی کا میخانہ
یہ بات حق ہے، نہیں ہے یہ کوئی افسانہ
کہا خدا نے "وبالوالدین احسانا”

نہ ہونے پائے کبھی تم سے ماں خفا لوگو
وگرنہ ٹھوکریں کھاوگے جا بہ جا لوگو

محبتوں کا سمندر ہے ذات مادر کی
ہے وقف بچوں کی خاطر حیات مادر کی
ہیں اپنے بچے ہی کل کائنات مادر کی
بشر پہ فرض ہے مانے وہ بات مادر کی

"ولا تقل لھما اف” سے آشکارا ہے
خدا کو ماں کی اہانت نہیں گوارا ہے

خدا کا مجھ پہ یہ انعام خاص ہے مادر
خدایا شکر ترا میرے پاس ہے مادر
مرے وجود کی پختہ اساس ہے مادر
جہان یاس میں بھی میری آس ہے مادر

جدائی ماں کی کسی طور سہہ نہیں سکتا
بچھڑ کے ماں سے میں زندہ ہی رہ نہیں سکتا

بشکل شیر ہمیں خون دل پلاتی ہے
کچھ اس طرح ہمیں پروان یہ چڑھاتی ہے
حرارت غم دنیا سے یہ بچاتی ہے
پکڑ کے ہاتھ یہ چلنا ہمیں سکھاتی ہے

وجود ماں کا وہ بے مثل فضل ربی ہے
بشر کے واسطے یہ بے بدل مربی ہے

وجود ماں کا عدیم النظیر دولت ہے
ہے ماں جہاں پہ وہاں پر نزول رحمت ہے
ہے جس مکان میں یہ وہ مکان جنت ہے
وجود ماں کا ہر اک گھر کی زیب و زینت ہے

کبھی بھی اس میں خوشی کی اذاں نہیں ہوتی
مجھے یقین ہے جس گھر میں ماں نہیں ہوتی

وجود ماں کا ہے شہکار خالق اکبر
وجود ماں کا ہے وجہ سکون قلب بشر
وجود ماں کا وسیلہ ہے بہر فتح و ظفر
ہے ماں کے دم سے ہی آسان زندگی کا سفر

نہیں جو ماں تو بشر کی خوشی ادھوری ہے
فقط خوشی ہی نہیں زندگی ادھوری ہے

سنو یہی ہے تقاضائے الفت مادر
قدم قدم پہ کرودل سے خدمت مادر
بشر پہ فرض ہے ہر دم اطاعت مادر
اسی سخن میں ہے پوشیدہ عظمت مادر

یہ ماں ہے جسکی محبت کی حد نہیں ہوتی
حدیث ہے کہ دعا ماں کی رد نہیں ہوتی

صمیم قلب سے بچوں پہ مہربان ہے ماں
ہر ایک کنبے میں بچوں کی ترجمان ہے ماں
مثال_ ابر سدا ان پہ سائبان ہے ماں
جہاں میں مصدر ایثار و امتنان ہے ماں

یہ اپنے بچوں کو ہر دم دعائیں دیتی ہے
ہمیشہ اپنی ردا کی ہوائیں دیتی ہے

پرائے دیس میں غربت بہت ستاتی ہے
اے میری ماں تری ممتا کی یاد آتی ہے
تری جدائی مجھے ہر گھڑی رلاتی ہے
مجھے یہ آتش ہجراں بہت جلاتی ہے

دیار غیر میں نوری ہے ماں بھی ساتھ نہیں
وطن سے دور کوئی لذت حیات نہیں
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ