ماں کے نام

مائیں سُکھ کی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں

دُکھ میں سرد ہواؤں جیسی ہوتی ہیں

 

دے کر اپنی خوشیاں دُکھ سہہ لیتی ہیں

یہ مقبول دعاؤں جیسی ہوتی ہیں

 

سارے رشتے عین وفا سے خالی ہیں

یہ بھرپور وفاؤں جیسی ہوتی ہیں

 

جب سنّاٹا روحیں گھائل کرتا ہے

تب باسوز صداؤں جیسی ہوتی ہیں

 

زینؔ دکھوں کی دھوپ میں اتنا سمجھا ہوں

مائیں سُکھ کی چھاؤں جیسی ہوتی ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

عمر بھر عشق کسی طور نہ کم ہو آمین
جھجھکتے رھنا نہیں ھے ادا محبت کی
مری دیوانگی خود ساختہ نئیں
مَنّت مانی جائے؟ یا کہ دم کروایا جا سکتا ہے؟
پایا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
وصال رُت بھی اگر آئے ، کم نہیں ہوتے
نہ پُھول کی نہ کسی نافۂ غزال کی ہے
بات کب رہ گئی مرے بس تک
صداء کوئی نہیں اب کے ، فقط دہلیز پر سر ہے
جو جا چکا وہ گیت ، وہی سُر تھا ، ساز تھا