ماہتابی ہیں مرے رنج و محن پانی میں

ماہتابی ہیں مرے رنج و محن پانی میں

اشکِ غم ہیں کہ ستاروں کا چمن پانی میں

 

جن خلیجوں سے گذرتی ہے ضیا دیتی ہے

آپ کے عکس کی ہلکی سی کرن پانی میں

 

موسمِ گُل میں یہی گل ہیں یہی تارے ہیں

اشکِ پیہم ہیں کہ پانی کی کرن پانی میں

 

ناخدا حق و اناالحق کی وضاحت کے لیے

بادبانوں کو کہوں دار و رسن پانی میں

 

ایسی برسات کہاں ایسے کہاں قلزم و یم

کِس نے دیکھا ہے ضیاؔ سیم بدن پانی میں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ