متاعِ بامِ فلک اور کہکشاں کے لیے

متاعِ بامِ فلک اور کہکشاں کے لیے

نبی کا ذرئہ پا نور ضوفشاں کے لیے

 

درودِ سرورِ کون و مکاں ہی کافی ہے

سکونِ دل کے لیے اور میری جاں کے لیے

 

چراغِ حُبِّ نبی جب سے گھر میں روشن ہے

اُجالے خلد سے آتے ہیں آستاں کے لیے

 

قدم ، قدم پہ مری رہنمائی فرمائی

وہ مہرباں ہیں بہت مجھ سے بے کساں کے لیے

 

نبی جی! آپ سے رونق ہے بزمِ دنیا کی

نبی جی! آپ ہی رحمت ہیں کُل جہاں کے لیے

 

بہشت والے بھی حسرت کریں گے سب جس کی

وہ تاج ہو گا فقط اُن کے مدح خواں کے لیے

 

کوئی نہیں ہے رضاؔ دوسرا شبِ معراج

حضورِ پاک سا مہمان میزباں کے لیے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

نئی نعت لکھوں نیا سال ہے​
ماحول سرورِ اسم کا ہے
اُن کے ٹکڑوں پہ شہنشاہوں کو پلتے دیکھا
وہ ہیں محبوبِ رب انکی سبکو طلب,اس میں کیا کوئی شک قلب سے روح تک
طیبہ کی ہے یاد آئی اب اشک بہانے دو
جشنِ آمدِ رسول اللہ ہی اللہ
عروجِ ذاتِ رسولِ خدا کی بات کرو
رکھتے ہیں صرف اتنا نشاں ہم فقیر لوگ
محمد مصطفیٰ کی رحمتوں کامجھ پہ سایہ ہو
در جاں چو کر منزل، جانانِ ما محمد