اردوئے معلیٰ

Search

مثل آئینۂ حیراں نظر آیا ہو گا

جس نے اللہ کے محبوب کو دیکھا ہو گا

 

منزل اوج پہ قسمت کا ستارا ہو گا

جس گھڑی گنبد خضرا کا نظارا ہو گا

 

غیر بھی دیکھ کے کہتے تھے نبی کا بچپن

تا ابد اس کا ہم انداز نہ پیدا ہو گا

 

ہر طرف پھیل گئی شمع نبوت کی ضیا

اب کہیں بھی نہ زمانے میں اندھیرا ہو گا

 

دشمن و دوست سبھی پر ہے نوازش یکساں

کون سرکار سا اخلاق سراپا ہو گا

 

مجھ کو خورشید قیامت کا نہیں خوف کوئی

دامن احمد مختار کا سایا ہو گا

 

جس کو بیمار نبی کہتی ہے دنیا سرورؔ

وہ تو خود اپنی جگہ ایک مسیحا ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ