اردوئے معلیٰ

مجسم نور، شاہِ مُرسلیں ہے

نہیں ہے، کوئی اُن جیسا نہیں ہے

 

جہاں حمدِ خُدا، نعتِ نبی ہو

وہیں آقا مرا مسند نشیں ہے

 

اِدھر عُشاق کے دِل میں قدم ہے

اُدھر زیرِ قدم عرشِ بریں ہے

 

سلامی کو ملائک آ رہے ہیں

وہاں دربان بھی روح الامیں ہے

 

جسے کوتاہ نظری کا قلق تھا

جمالِ دید سے وہ دُور بیں ہے

 

رُخِ زیبا کا ہے ہر دم تصور

اُنہی کی یاد ہر دم دِلنشیں ہے

 

ظفرؔ! محبوب، محبوبِ خُدا سا

نہ تھا، ہو گا، نہ کوئی بھی کہیں ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات