اردوئے معلیٰ

مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

مجھے ائے ضبط ، کچھ تو معتبر کر

 

چلو جو بات تھی وہ کھل گئی ہے

تو ہے ناکام ، قصہ مختصر کر

 

وہ اس منزل سے آگے جا چکا ہے

دلِ ناکام ، آ پھر سے سفر کر

 

بھری رہتی ہیں آنکھیں آج تک بھی

اسے دیکھا تھا میں نے آنکھ بھر کر

 

مجھے قربان کرنا ہے ، تو کر بھی

محبت کا تماشہ درگزر کر

 

جسے بیچا گیا ہے کوڑیوں میں

کبھی اس شاہزادے کی خبر کر

 

تجھے رودادِ وحشت کیا سناؤں

میں لوٹا ہوں قیامت سے گزر کر

 

تو خود کو جابجا گردانتا تھا ؟

سو رقصِ مرگ بھی اب دربدر کر

 

میں اب کیا منہ دکھاؤں شاعری کو

مرے دستِ ہنر کو بے ہنر کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ