مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

مجھے اب مار دے یا پھر امر کر

مجھے ائے ضبط ، کچھ تو معتبر کر

 

چلو جو بات تھی وہ کھل گئی ہے

تو ہے ناکام ، قصہ مختصر کر

 

وہ اس منزل سے آگے جا چکا ہے

دلِ ناکام ، آ پھر سے سفر کر

 

بھری رہتی ہیں آنکھیں آج تک بھی

اسے دیکھا تھا میں نے آنکھ بھر کر

 

مجھے قربان کرنا ہے ، تو کر بھی

محبت کا تماشہ درگزر کر

 

جسے بیچا گیا ہے کوڑیوں میں

کبھی اس شاہزادے کی خبر کر

 

تجھے رودادِ وحشت کیا سناؤں

میں لوٹا ہوں قیامت سے گزر کر

 

تو خود کو جابجا گردانتا تھا ؟

سو رقصِ مرگ بھی اب دربدر کر

 

میں اب کیا منہ دکھاؤں شاعری کو

مرے دستِ ہنر کو بے ہنر کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

تمہیں لگے تو لگے کچھ بھی لا محالہ برا
دکھانے کو سجنا سجانا نہیں تھا
خوشبوئے گُل نظر پڑے ، رقص ِ صبا دکھائی دے
میرا سکوت سُن ، مِری گویائی پر نہ جا
غضب کی دُھن، بلا کی شاعری ہے
وہ زخم جو معمول سمجھتے تھے ، بھرے کیا؟
بات یوں ہے کہ اب دل سلامت نہیں
درد بڑھتا ہی چلا آتا ہے رفتار کے ساتھ
نظارہ کریں کیسے تری جلوہ گری کا
بلندیوں کے نتائج سے ڈر چکا ہوں میں