اردوئے معلیٰ

مجھے اندر کا وحشی معتبر ہونے نہیں دیتا

مجھے اندر کا وحشی معتبر ہونے نہیں دیتا

جدھر انسانیت ہے یہ ادھر ہونے نہیں دیتا

 

نمو کی ساری خاصیت پنہاں ہے میرے سینے میں

زمیں کا شور ہی مجھ کو شجر ہونے نہیں دیتا

 

اچانک ٹوٹ پڑتیں بجلیاں ہیں میرے خرمن پر

برا دن اپنے آنے کی خبر ہونے نہیں دیتا

 

میں جب بھی بات کرتا ہوں وہ مجھ کو ٹوک دیتا ہے

مرا بیٹا ہی مجھ کومعتبر ہونے نہیں دیتا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ