مجھے بحرِ غم سے اُچھال دے

مجھے بحرِ غم سے اُچھال دے

مجھے مشکلوں سے نکال دے

مجھے سیدھی راہ پر ڈال دے

مجھے اپنی چاہ میں ڈھال دے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

پیش نگاہ خاص و عام، شام بھی تو، سحر بھی تو
تُوں دُنیا دے باغ دا
خدا ہے روشنی جھونکا خدا ہے
پُر لطف زندگی ہے مری لاجواب ہے
جو مشفق ہے جو مونس مہرباں ہے، وہی تیرا خدا میرا خدا ہے
مقام و مرتبہ اللہ کا اللہ اکبر
جہاں کے بُتکدوں سے دُور رہنا
خدا موجود ہر سرِ نہاں میں
خداوندِ شفیق و مہرباں تو
خدا کا نام میرے جسم و جاں میں

اشتہارات