اردوئے معلیٰ

Search

مجھے بکھرے بکھرے سے بال یوں بھی پسند ہیں

مجھے ماتمی سے لباس میں نہ ملا کرو

 

مجھے بے وقوف سمجھ رہا ہے مری طرح

مری بے دھیانی سے فائدہ جو اُٹھا لیا

 

کسی اُس جہان میں مل کے تجھ سے میں کیا کروں

مرے منتشر سے جہان میں مجھے مل کبھی

 

مرے خوش گماں تری چاہتوں کے نثار پر

مجھے برملا سی محبتوں پہ یقیں نہیں

 

مرے زخم ہیں انہیں اپنی ذات سے جوڑ مت

مرے چارہ گر مری حسرتوں سے گریز کر

 

تری حیرتیں مری چلتی سانس کو دیکھ کر

مرے حوصلے کا طلسم ہے جو اٹوٹ ہے

 

میں قیام گاہ بنا رہا ترے واسطے

تو یہ کیا ہوا مجھے کیوں بکھیر کے رکھ دیا؟

 

اسے شاعری کا ادب یہ کس نے سکھا دیا

مری بات بات پہ داد دیتا ہے طنز سے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ