اردوئے معلیٰ

مجھے بھی لائے گا شوقِ سفر ’’مواجہ‘‘ پر

 

مجھے بھی لائے گا شوقِ سفر ’’مواجہ‘‘ پر

شبِ فراق کی ہو گی سحر ’’مواجہ‘‘ پر

 

زباں سے عرضِ تمنا نہ کر سکا لیکن

کھڑا تھا ہاتھ، مگر باندھ کر ’’مواجہ‘‘ پر

 

ازل سے محوِ سفر ہے ہمارا ذوقِ نظر

تمام ہو گا ہمارا سفر ’’مواجہ‘‘ پر

 

اُنہی کے جود و عطا کا جہاں میں شہرہ ہے

یہی لٹاتے ہیں لعل و گہر ’’مواجہ‘‘ پر

 

طبیبو ! جاؤ تمہارے یہ بس کا روگ نہیں

ملیں گے مجھ کو مرے چارہ گر ’’مواجہ‘‘ پر

 

نہ دیکھ پایا ’’مواجہ شریف‘‘ جی بھر کے

جھُکی جھُکی سی پڑی ہے نظر ’’مواجہ‘‘ پر

 

غموں کی دھوپ سے مل جائے گی نجات مجھے

نصیب میں ہے اگر دوپہر ’’مواجہ‘‘ پر

 

مرادیں مانگ لو دونوں جہاں کی مولا سے

چلے ہی آئے ہو اشفاقؔ گر ’’مواجہ‘‘ پر

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ