اردوئے معلیٰ

مجھے عشق نے یہ پتا دیا کہ نہ ہجر ہے نہ وصال ہے

مجھے عشق نے یہ پتا دیا کہ نہ ہجر ہے نہ وصال ہے

اسی ذات کا میں ظہور ہوں یہ جمال اسی کا جمال ہے

 

وہی صورت اور وہی آئینہ جو خیال دل سے یہ جائے نہ

تو وہ رو بہ رو ہے ہر آئینہ یہی شان شان کمال ہے

 

کوئی اور حق کے سوا نہیں ازل و ابد ہے وہ آپ ہی

وہی آپ لیس کمثلہ وہی آپ اپنی مثال ہے

 

مری بندگی ہے تو بس یہی کہ کروں میں اپنی ہی بندگی

یہی ذکر ہے یہی فکر ہے یہی حال ہے یہی قال ہے

 

میں فدائے مرشد پاک ہوں در بارگاہ کی خاک ہوں

وہ سما کے مجھ میں یہ کہتے ہیں کہ عزیزؔ غیر‌ محال ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ