مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا

میری تقدیر جاگے گی، مدینے کا سفر ہو گا

 

تمہارے شہر میں دنیا کا غم ہو گا نہ عقبیٰ کا

نہ جینے میں کوئی الجھن، نہ مر جانے کا ڈر ہو گا

 

یہ معراجِ تمنا ہے کہ اُس شہر تمنا میں

کسی روشن گلی کے موڑ پر میرا بھی گھر ہو گا

 

مرا ہر موئے تن، عضوِ بصارت کو دعا دے گا

نظر کے سامنے جب روضۂ خیر البشر ہو گا

 

مجھے اک بار طیبہ میں بلائیں گے مرے آقاؐ

پھر اس کے بعد، اے دل! یہ کرم بار دگر ہو گا

 

غزالوں پر غزل کہنا تو فرصت کا تقاضا ہے

لبوں پر نعت آئے گی تو اخترؔ معتبر ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں
سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے
وہ جو قرآن ہو گیا ہوگا
کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
آخری عکس
رکھا بے عیب اللہ نے محمد کا نسب نامہ​
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
ذاتِ والا پہ بار بار درود
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اشتہارات