مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا

مجھے کامل یقین ہے، التجاؤں میں اثر ہو گا

میری تقدیر جاگے گی، مدینے کا سفر ہو گا

 

تمہارے شہر میں دنیا کا غم ہو گا نہ عقبیٰ کا

نہ جینے میں کوئی الجھن، نہ مر جانے کا ڈر ہو گا

 

یہ معراجِ تمنا ہے کہ اُس شہر تمنا میں

کسی روشن گلی کے موڑ پر میرا بھی گھر ہو گا

 

مرا ہر موئے تن، عضوِ بصارت کو دعا دے گا

نظر کے سامنے جب روضۂ خیر البشر ہو گا

 

مجھے اک بار طیبہ میں بلائیں گے مرے آقا

پھر اس کے بعد، اے دل! یہ کرم بار دگر ہو گا

 

غزالوں پر غزل کہنا تو فرصت کا تقاضا ہے

لبوں پر نعت آئے گی تو اخترؔ معتبر ہو گا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ