اردوئے معلیٰ

Search

مجھ خطا کار پہ آقا جو نظر ہو جائے

زندگی میری مدینے میں بسر ہو جائے

 

جس کو ہو جائے تِرے نام سے نسبت شاہا!

بس وہی نام زمانے میں امر ہو جائے

 

بن کے طائر جو مدینے کی فضا میں اُتروں

ہجر کی رات کٹے اور سحر ہو جائے

 

ٹہنیاں گاڑیں زمیں میں تو اُنہیں باغ کریں

شاخ کو ہاتھ لگا دیں تو شجر ہو جائے

 

دستِ سرکار کو وہ شان خدا نے بخشی

ذرۂ خاک کو چھو لیں تو گُہر ہو جائے

 

نعت کہتے ہوئے جاؤں گا مدینے کو جلیل

نعتِ سرکار مرا زادِ سفر ہو جائے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ