مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے

مجھ پہ کیا اللہ کا انعام ہے

حمد سے منسوب میرا نام ہے

 

جو صفات کبریا دے غیر کو

ایسے انساں کا برا انجام ہے

 

جس کا ہے توحید خالص پر یقیں

بس وہی تو صاحب اکرام ہے

 

شرک کی تعلیم دے منبر پہ جو

اپنے ہاں وہ داخل دشنام ہے

 

کیوں نہ عظمت دل میں ہو توحید کی

جب پیا میں نے غدیری جام ہے

 

نعت کہنا اور لکھنا حمد حق

اپنا تو معمول کا یہ کام ہے

 

میں نہیں کرتا رعایت ان کے ساتھ

مشرکوں کا مجھ پہ یہ الزام ہے

 

جن کو بھی چُبھتے مرے اشعار ہیں

نام میرا ان کے ہاں بدنام ہے

 

سلطنت میں اہل ایماں کی بلال

ذکر اس کا ہی تو صبح و شام ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اک بھٹکتا سا مسافر ترے در پر آیا
خدا فرمانروا، حاجت روا ہے، خدا اکبر ہے اعظم ہے بڑا ہے
خدا موجود ہے عرشِ بریں پر
ہمیں دے یا خُدا نُورِ بصیرت بھی بصارت بھی
مسلمانوں کا مرکز گھر خدا کا
زمانہ جس کو خالق مانتا ہے
سدا وردِ زباں اللہ اکبر
کبھی کوہ و دمن میں کھوجتا ہے
سرورِ قلب و جاں اللہ ہی اللہ
خدا کی قدرتیں ہر سُو عیاں ہیں