مجھ کو بھی ملے اذنِ سفر سیدِ سادات

مجھ کو بھی ملے اذنِ سفر سیدِ سادات

ہے پیشِ نظر آپ کا در سیدِ سادات

 

مرجان نہ یاقوت، نہ الماس و جواہر

درکار ہے بس ایک نظر سیدِ سادات

 

روشن اسے کر دیجئے جلوؤں سے بسا کر

ویران ہے سنسان ہے گھر سیدِ سادات

 

یہ حاضر و ناظر کے عقیدے نے سکھایا

رکھتے ہیں غلاموں کی خبر سیدِ سادات

 

للہ مجھے اپنے ہی قدموں میں سلا لیں

اے میرِ امم خیر بشر سیدِ سادات

 

آصفؔ بھی ہے ادنیٰ سے تمنائیِ دیدار

طالب ہیں اگر شمس و قمر سیدِ سادات

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات