اردوئے معلیٰ

Search

 

مجھ کو تنہائی میں سرکار بہت یاد آئے

غم کے ماروں کے وہ غم خوار بہت یاد آئے

 

آج ہے آپ کی امت پہ وہی سنگ زنی

پھر سے طائف کے وہ بازار بہت یاد آئے

 

عرش پر جا کے بھی ہم فرش نشینوں میں سے

آپ کو مجھ سے گنہگار بہت یاد آئے

 

دیکھ کر مسجدِ نبوی کے جمال و عظمت

پہلی بنیاد کے معمار بہت یاد آئے

 

پھر ہوا لب کو عطا صلِّ علیٰ کا تحفہ

پھر وہ کونین کے سردار بہت یاد آئے

 

آنکھ نے غسل کیا ، دل کو دھڑکنا آیا

جب مجھے سیدِ ابرار بہت یاد آئے

 

آ گیا مجھ کو جو قسمت کی سیاہی کا خیال

سبز گنبد کے وہ انوار بہت یاد آئے

 

تذکرہ جب بھی چلا اہلِ وفا کا عارفؔ

یوں تو لاکھوں ہیں مگر چار بہت یاد آئے

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ