مجھ کو شریکِ غم بنا، اپنا شریکِ حال رکھ

مجھ کو شریکِ غم بنا، اپنا شریکِ حال رکھ

اتنا بھی خود غرض نہ بن، کچھ تو مرا خیال رکھ

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

کس طور اُن سے آج ملاقات ہم کریں
نظریں چُرائیے، نہ ندامت اٹھائیے
مانتا ھُوں کہ مُجھے عشق نہیں ھے تُجھ سے
گیا ہے جو بھکاری، جانتے ہو کون تھا یہ ؟
نہ خوف آہ بتوں کو نہ ڈر ہے نالوں کا
چوم بیٹھا ہوں تیری آنکھوں کو
شوریدہ بستی میں ایسی آوازوں کی بھیڑ رہی
لے قضا احسان تجھ پر کر چلے
وہ لہجہ ہائے دریائے سخن میں مسلسل
ذرا سی بات پے ہر رسم توڑ آیا تھا