اردوئے معلیٰ

Search

مجھ کو شکستِ دل کا مزا یاد آگیا

تم کیوں اُداس ہوگئے کیا یاد آگیا

 

کہنے کو زندگی تھی بہت مختصر مگر

کچھ یوں بسَر ہوئی کہ خُدا یاد آگیا

 

واعظ سَلام لے کہ چَلا مَیکدے کو میں

فردوسّںِ گُم شُدہ کا پتہ یاد آگیا

 

برسے بغیر ہی جو گَھٹا گِھر کے کُھل گئی

اک بے وفا کا عہَدِ وفا یاد آگیا

 

یوں چونک اُٹھے وہ سُن کے مِرا شکوۂ فراق

جیسے اُنھیں بھی کوئی گِلا یاد آگیا

 

مانگیں گے اب دُعا کہ اُسے بُھول جائیں ہم

لیَکن جو وہ بوقتِ دُعا یاد آگیا

 

حیرت ہے تُم کو دیکھ کے مسجد میں اے خُماؔر

کیا بات ہوگئی جو خُدا یاد آگیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ