اردوئے معلیٰ

مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات

ائے کاش دستِ غم مرے پرزے اڑا سکے

 

دل کو سگانِ شہرِ ہوس نوچتے رہے

سادہ دلانِ عشق فقط مسکرا سکے

 

ائے کاش کہ فصیل بنے کربِ مرگِ دل

تو بھی مرے قریب جو آئے نہ آ سکے

 

جادو گرانِ شوق نے کر لی ہے خودکشی

کم بخت عمر بھر میں یہ کرتب دکھا سکے

 

ائے عشق، سر زمینِ وفا میں شگاف کر

جس میں مرے جنون کا لاشہ سما سکے

 

میں خال و خد کے رتبہِ اعلی سے گر گیا

وہ نقش بن چکا ہوں جسے تو مٹا سکے

 

آنکھوں سے جھانکتی ہے تری آتشیں جفا

کس کی مجال ہے کہ نگاہیں ملا سکے

 

جکڑآ ہوا تھا ظرف کی زنجیر نے جنہیں

جب سر قلم ہوا تو فقط کسمسا سکے

 

اڑنے لگے جو رنگ تو ایسے اڑے کہ اب

یوں ہے کہ روشنی بھی مرے پار جا سکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات