مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات

مجھ کو ملے شکست کے احساس سے نجات

ائے کاش دستِ غم مرے پرزے اڑا سکے

 

دل کو سگانِ شہرِ ہوس نوچتے رہے

سادہ دلانِ عشق فقط مسکرا سکے

 

ائے کاش کہ فصیل بنے کربِ مرگِ دل

تو بھی مرے قریب جو آئے نہ آ سکے

 

جادو گرانِ شوق نے کر لی ہے خودکشی

کم بخت عمر بھر میں یہ کرتب دکھا سکے

 

ائے عشق، سر زمینِ وفا میں شگاف کر

جس میں مرے جنون کا لاشہ سما سکے

 

میں خال و خد کے رتبہِ اعلی سے گر گیا

وہ نقش بن چکا ہوں جسے تو مٹا سکے

 

آنکھوں سے جھانکتی ہے تری آتشیں جفا

کس کی مجال ہے کہ نگاہیں ملا سکے

 

جکڑآ ہوا تھا ظرف کی زنجیر نے جنہیں

جب سر قلم ہوا تو فقط کسمسا سکے

 

اڑنے لگے جو رنگ تو ایسے اڑے کہ اب

یوں ہے کہ روشنی بھی مرے پار جا سکے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر