مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری

مجھ کو چھپا حروف کے آنچل میں شاعری

میں پھر شکستِ خواب کے صدمے سے چُور ہوں

 

بوسیدگی کی گرد اُڑا ، نرم پُھونک سے

میں باقیات ہائے گزشتہ غرُور ہوں

 

صفحاتِ دل پہ آخری تحریر مٹ گئی

عریاں کھڑا ہوا ہوں کہ بین السطُور ہوں

 

وہ شخص جذب ہو گیا دہلیز میں تری

شاید یہ میں نہیں ہوں جو تیرے حضُور ہوں

 

تختوں میں بٹ چکا ہے سفینہ یقین کا

تختوں پہ کیا فنا کے سمندر عبُور ہوں

 

آندھی کے بعد پھر نہ دکھائی دیے کبھی

ہونٹوں کی تتلیاں کہ سخن کے طیُور ہوں

 

تیری طرف بڑھا تو بہت پاس تھا ترے

اِک عمر چل چکا تو کڑے کوس دُور ہوں

 

میری بلندیوں کا صِلہ ، صرف سوز ہے

ائے محوِ آرزُوئے تجلی ، میں طُور ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

اتنے مُختلف کیوں ھیں فیصلوں کے پیمانے ؟
کیسی شدت سے تجھے ہم نے سراہا ، آہا
کوئی دیکھتا ہے تو دیکھ لے، مجھے عید مِل
تم نے تو یوں بھی مجھے چھوڑ کے جانا تھا ناں؟
ڈھونڈ کر لائے تھے کل دشتِ جنوں کا راستہ
تمام اَن کہی باتوں کا ترجمہ کر کے
اس لیے بھی دُعا سلام نہیں
اِک ذرہِ حقیر سے کمتر ہے میری ذات
پا یا گیا ہے اور نہ کھویا گیا مجھے
اب اُس کی آرزو میں نہ رہیئے تمام عمر