محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی

محبت ہو اگر بین الاُمم، ہو بین الاسلامی

محبت ہو اگر بین المذاہب، بین الاقوامی

ظفرؔ انسان آپس میں ملیں مہرو محبت سے

فضائیں امنِ عالم کی رہیں قائم دوامی

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

مقدور ہمیں کب ترے وصفوں کی رقم کا
اللہ ! تو رَحْمٰنُ و رحِیْمْ
لبِ ازل کی صدا لَا اِلٰہ اِ لّا اللہ
میرے اشکوں میں مری فریاد، دل برسائے گا
حوالہ ہے وہ عفو و درگزر کا
کرم کا سائباں سر پر ہے میرے
خدا کی ذات کا فضل و کرم ہے
خدا کے گھر سے گرچہ دُور ہوں میں
خدا کے حمد گو گلشن چمن ہیں
جو احکامِ خدا سے بے خبر ہے