محبوبِ ربِ اکبر تشریف لا رہے ہیں

محبوبِ ربِ اکبر تشریف لا رہے ہیں

دونوں جہاں کے سرور تشریف لا رہے ہیں

 

روشن ہوا ہے جن کی آمد سے سارا عالم

وہ پر ضیاء ، منور تشریف لا رہے ہیں

 

سب بیکسوں کے ماوا ، سب غمزدوں کے حامی

چین و قرارِ مضطر تشریف لا رہے ہیں

 

تطہیر کی گواہی جن کی خدا نے دی ہے

وہ طیّب و مطہر تشریف لا رہے ہیں

 

بھٹکے ہوئے زمانے کو راستہ دکھانے

اللہ کے پیمبر تشریف لا رہے ہیں

 

تشنہ لبو مبارک ، کثرت خدا سے لے کر

ساقیِِ حوضِ کوثر تشریف لا رہے ہیں

 

جن کے لیے خدا نے سارا جہاں سجایا

آسیؔ وہ نور پیکر تشریف لا رہے ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ