محبوبِ رب کہیں شہِ والا کہ کیا کہیں

محبوبِ رب کہیں شہِ والا کہ کیا کہیں

اتنا ہے رتبہ آپ کا بالا کہ کیا کہیں

 

تاریکیوں میں ڈوب چلا تھا یہ شہرِ دل

نورِ نبی نے ایسا اجالا کہ کیا کہیں

 

جو ڈگمگا رہے تھے رہِ زیست میں انہیں

یوں رحمتِ نبی نے سنبھالا کہ کیا کہیں

 

آساں ہوئے مراحلِ دنیا و آخرت

کام ایسا آیا ان کا حوالا کہ کیا کہیں

 

ایسے ہے جان ان پہ لُٹانے کو پیش پیش

ہر ایک ان کا چاہنے والا کہ کیا کہیں

 

آصف رہی نہیں کوئی حاجت، غنی ہوں میں

اس طرح مجھ کو آپ نے پالا کہ کیا کہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ