محبوبِ رب کہیں شہِ والا کہ کیا کہیں

محبوبِ رب کہیں شہِ والا کہ کیا کہیں

اتنا ہے رتبہ آپ کا بالا کہ کیا کہیں

 

تاریکیوں میں ڈوب چلا تھا یہ شہرِ دل

نورِ نبی نے ایسا اجالا کہ کیا کہیں

 

جو ڈگمگا رہے تھے رہِ زیست میں انہیں

یوں رحمتِ نبی نے سنبھالا کہ کیا کہیں

 

آساں ہوئے مراحلِ دنیا و آخرت

کام ایسا آیا ان کا حوالا کہ کیا کہیں

 

ایسے ہے جان ان پہ لُٹانے کو پیش پیش

ہر ایک ان کا چاہنے والا کہ کیا کہیں

 

آصف رہی نہیں کوئی حاجت، غنی ہوں میں

اس طرح مجھ کو آپ نے پالا کہ کیا کہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حسرتِ دیدۂ نم، قلبِ تپاں سے آگے
نبی کی نعت نگاری میں زندگی گذرے
چوم آئی ہے ثنا جُھوم کے بابِ توفیق
کبھی رونا کبھی ہنسنا کبھی کچھ التجا کرنا
جذبوں کی حرف گہ کو ذرا مُعتبر کریں
حسن جان و دل نثارے مصطفیٰ کے شہر میں
وہ حسنِ مکمل، پیکرِ الفت، خلقِ مجسم کیا کہئے
جس کو خدا نے اپنا محبوب چن لیا ہے
بقدرِ فہم کرتے ہیں ثنا جتنی بھی ہو ہم سے
جھکا ہوا ہے مرا سر اُٹھا نہیں سکتا

اشتہارات