اردوئے معلیٰ

محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے

محروم ہیں تو کیا غم دل حوصلہ نہ ہارے

طیبہ کے ہوں گے اک دن اے دوستو نظارے

 

رختِ سفر کسی دن باندھیں گے ہم بھی اپنا

ہم کو بھی لوگ ملنے آئیں گے گھر ہمارے

 

آتے ہیں کام اس کے ایمان ہے یہ اپنا

مشکل میں جو کوئی بھی سرکار کو پکارے

 

جب یاد ان کی آئی بے اختیار آئی

پلکوں پہ جھلملائے ہر رنگ کے ستارے

 

جس شخص کو طلب ہے جنت کو دیکھنے کی

سرکار کی گلی میں دو چار دن گزارے

 

جس کا وکیل رب ہو آقا کی پیروی ہو

وہ کیسے استغاثہ انسان کوئی ہارے

 

ہونٹوں پہ آس ہر دم جاری درود رکھنا

ناؤ تمہاری خود ہی لگ جائے گی کنارے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ