اردوئے معلیٰ

Search

محمد مصطفی ، خیر البشر ، محبوبِ داور ہے

شرافت ، حِلم ، ایثار و سخاوت کا وہ پیکر ہے

 

فدا اس پر مرے ماں باپ ، جو ہے رحمتِ عالم

مرا آقا ہے مخلوقِ خدا کا محسنِ اعظم

 

محبت اور اخوّت کی ہمیں تعلیم دی جس نے

رواداری کا برتاؤ کیا دشمن سے بھی جس نے

 

جو مخلوقِ خدا کے کام آتا تھا بہر صُورت

غریبوں ، بے نواؤں پر سدا کرتا رہا شفقت

 

پسند اُس نے نہ رنگ و نسل کی تفریق فرمائی

خدا ترسی فضیلت کے لیے معیار ٹھہرائی

 

جہاں سے ہر بُرائی میرے آقا نے مٹا ڈالی

وہ جس نے اک نئی تہذیب کی آ کر بِنا ڈالی

 

جب اپنے دل میں انساں کی ترقّی کے لیے ٹھانی

تو انساں کو سکھائیں مستقِل اقدارِ روحانی

 

وہ حق گوئی کا مظہر ، اِستقامت کا حسیں پیکر

جو رحمت بن کے آیا ، وہ خدا کا خاص پیمبر

 

وہی کام اُس سے ہیں منسوب ، جن سے ہے خدا راضی

کوئی دیکھے تو اُس کی سادگی ، ایثار ، فیّاضی

 

زمانے بھر پہ اُس نے اپنی سیرت کا اثر ڈالا

فساد و فتنہ و شر سے جہاں کو پاک کر ڈالا

 

وہ جس کے حکم پر تسلیم کی عادت ضروری ہے

بزرگوں کا ادب ، ماں باپ کی طاعت ضروری ہے

 

تحمّل، صبر ، نیکی اور دیانت جس نے سکھلائی

وہ محبوبِ خدا ، جس کی ثنا قرآں نے فرمائی

 

اُسی کے ذکر سے محمودؔ کے دل نے سکوں پایا

اُسی کے فیض سے فکر و عمل میں اِنقلاب آیا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ