اردوئے معلیٰ

مداوائے رنج و اَلم چاہتا ہوں

مداوائے رنج و اَلم چاہتا ہوں

حضور ایک چشمِ کرم چاہتا ہوں

 

مجھے اپنی الفت سے سرشار کر دیں

نہ دُنیا نہ باغِ اِرم چاہتا ہوں

 

مری آرزو کاش! ہو جائے پوری

نکل جائے چوکھٹ پہ دَم چاہتا ہوں

 

خوشی مجھ کو مل جائے گی دو جہاں کی

میں دِل میں فقط اُن کا غم چاہتا ہوں

 

حضور آپ کے عشق میں لمحہ لمحہ

دلِ مضطرب چشمِ نم چاہتا ہوں

 

گناہ گار ہوں میں قیامت کا دن ہے

کرم چاہتا ہوں کرم چاہتا ہوں

 

سرِ حشر اے کاش! آصف وہ کہہ دیں

’’ہمارا ہے‘‘ اتنا بھرم چاہتا ہوں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ