اردوئے معلیٰ

Search

مدت کے بعد منہ سے لگی ہے جو چھوٹ کر

تو یہ بھی مے پہ گرتی ہے کیا ٹوٹ ٹوٹ کر

 

مہندی تھا میرا خون کہ ہوتا جو رائیگاں

اک شب کے بعد ہاتھ سے قاتل کے چھوٹ کر

 

پہلا ہی دن تھا ہم کو کیے ترک مے کشی

کیا کیا پڑا ہے رات کو مینہ ٹوٹ ٹوٹ کر

 

صبر و قرار لے کے دیا داغ آرزو

آباد تم نے دل کو کیا مجھ کو لوٹ کر

 

حیرت ہے میرے اختر بخت سیاہ کو

کیوں کر گہن سے چاند نکلتا ہے چھوٹ کر

 

اللہ رے آنسوؤں کا کھٹکنا فراق میں

آنکھوں میں بھر گیا کوئی الماس کوٹ کر

 

ٹپکے نہیں قلم کے فقط اشک نامہ پر

وہ کچھ لکھا کہ روئی سیاہی بھی پھوٹ کر

 

کر بند و بست ابھی سے نہ گلشن میں باغباں

وہ دن تو ہو کہ مرغ قفس آئیں چھوٹ کر

 

صد حیف سرگذشت جو اپنی کہی جلالؔ

تو اس کو داستان سمجھ سچ کو جھوٹ کر

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ