اردوئے معلیٰ

مدحتِ شاہِ دو عالَم سے معنبر شب و روز

مدحتِ شاہِ دو عالَم سے معنبر شب و روز

بس وہی ہے مرے باہَر ، مرے اندر شب و روز

 

وہ جو گزرے تھے ترے کوچۂ رحمت میں کبھی

بخدا وہ تھے کوئی عرصۂ دیگر شب و روز

 

کیا خبر کب سرِ امکاں کوئی مژدہ چمکے

دیکھتا رہتا ہوں تقدیر کے اختر شب و روز

 

ساعتِ جبر میں محصور وظیفہ ہے حیات

چھوڑ آیا ہُوں میں جب سے ترے در پر شب و روز

 

تُو جو چاہے تو انہیں ہست کا عنواں دے دے

نیست ملبوس ، طلب رفتہ ہیں ، بے گھر شب و روز

 

سبز منقوش حوالوں سے مزین وہ زماں

خَلق کا اب وہ ابد تک ہیں مقدر شب و روز

 

بس ترے نام سے جُڑتے ہیں ، جُڑے رہتے ہیں

بس تری نعت سے مربوط ہیں یکسر ، شب و روز

 

وہ شب و روز جنہیں اذن ہُوئے خواب کے رنگ

حاصلِ زیست ہیں اور زیست سے بڑھ کر شب و روز

 

سینچتے ہیں تری نسبت کے تناظر سے نمود

کھینچتے ہیں تری تمدیح کا منظر شب و روز

 

آنکھ کو ساعتِ طلعت میں نہیں حاجتِ دید

جلوۂ وصل سے پہیم ہیں منور شب و روز

 

وہ جنہیں نعت کی نسبت کا حوالہ ہے نصیب

میری قسمت میں ہیں مقصودؔ وہ خوشتَر شب و روز

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ