مدحتِ شاہِ مدینہ میں کھلی ہیں آنکھیں

مدحتِ شاہِ مدینہ میں کھلی ہیں آنکھیں

ترجماں دل کی ہمیشہ سے رہی ہیں آنکھیں

 

جب سے سرکار کی چوکھٹ پر جھکی ہیں آنکھیں

جانبِ خلدِ بریں بھی نہ اٹھی ہیں آنکھیں

 

کسی پتھر کی تراشیدہ نظر آتی ہیں

اس طرح گنبدِ خضرا پہ جمی ہیں آنکھیں

 

حرمِ پاک پہ سجدوں سے جبیں روشن ہے

سرمہ خاکِ مدینہ سے سجی ہیں آنکھیں

 

بے سبب تو نہیں آنکھوں میں حنائی رنگت

رات بھر عطرِ محبت میں بسی ہیں آنکھیں

 

بابِ جبریل پہ پلکوں کو بچھا رکھا ہے

وقف جاروبی دربار نبی ہیں آنکھیں

 

آئے گا پردہ بینائی پہ جلوہ ان کا

لطفِ سرکارِ مدینہ پہ لگی ہیں آنکھیں

 

نامِ سرکار پہ آنسو امنڈ آتے ہیں رشید

اپنے اجداد کی آنکھوں پہ گئی ہیں آنکھیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

جُز غمِ ہجرِ نبیؐ ہر غم سے ہوں ناآشنا​
غنچہ و گل میں نہ ہرگز مشک اور عنبر میں ہے
دل میں ہو یاد تیری گوشہ تنہائی ہو
عجب پر نور تھا اس دم سماں معراج کی شب
اے شہرِ علم و عالمِ اسرارِ خشک و تر​
دشت ہے کل جہاں سائباں آپ صلی اللہ علیک وسلم ہیں
اس کو نہ چھو سکے کبھی رنج و بلا کے ہاتھ
کھوکھلے دعوے
جُود وعطا میں فرد،وہ شاہِؐ حجاز ہے
شہرِ اَبیات میںخامے کا سفر نازُک ہے