مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

 

مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

حاصلِ نطق یہ اعزاز ہوا بسم اللہ

 

نعت کہنے کی ہی کوشش میں رہا شام و سحر

اذن پھر ناز بہ انداز ہوا بسم اللہ

 

دھڑکنیں صل علیٰ صل علیٰ پڑھتی رہیں

نعتِ احمد کا یہ اعجاز ہوا بسم اللہ

 

ویسے تو فردِ عمل خام تھی روزِ محشر

نعت کہنا مرا اعزاز ہوا بسم اللہ

 

ان کی آمد کا سنا قبر میں وہ آتے ہیں

مثلِ دف دل مرا ہم ساز ہوا بسم اللہ

 

حسرتِ جلوۂ دیدار بکھرنے ہی کو تھی

لطف ان کا مرا دم ساز ہوا بسم اللہ

 

ورفعنا لک ذکرک کی سند لے کے ترا

ذکر تیرے لیے افراز ہوا بسم اللہ

 

جب کوئی نعت لکھی آپ کے منظرؔ نے شہا

سارے عالم سے وہ ممتاز ہوا بسم اللہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

سلام اس پر، کہ نام آتا ہے بعد اللہ کے جس کا
ہر آنکھ میں پیدا ہے چمک اور طرح کی
کیا پیار بھری ہے ذات ان کی جو دل کو جِلانے والے ہیں
نوری محفل پہ چادر تنی نور کی ، نور پھیلا ہوا آج کی رات ہے
کافِ کن کا نقطۂ آغاز بھی تا ابد باقی تری آواز بھی
حامل جلوہءازل، پیکر نور ذات تو
سمایا ہے نگاہوں میں رُخِ انور پیمبر کا
جس کی دربارِ محمد میں رسائی ہوگی
سکونِ قلب و نظر تھا بڑے قرار میں تھے
خیال کیسے بھلا جائے گا جناں کی طرف

اشتہارات