مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

 

مدحتِ شاہ سے آغاز ہوا بسم اللہ

حاصلِ نطق یہ اعزاز ہوا بسم اللہ

 

نعت کہنے کی ہی کوشش میں رہا شام و سحر

اذن پھر ناز بہ انداز ہوا بسم اللہ

 

دھڑکنیں صل علیٰ صل علیٰ پڑھتی رہیں

نعتِ احمد کا یہ اعجاز ہوا بسم اللہ

 

ویسے تو فردِ عمل خام تھی روزِ محشر

نعت کہنا مرا اعزاز ہوا بسم اللہ

 

ان کی آمد کا سنا قبر میں وہ آتے ہیں

مثلِ دف دل مرا ہم ساز ہوا بسم اللہ

 

حسرتِ جلوۂ دیدار بکھرنے ہی کو تھی

لطف ان کا مرا دم ساز ہوا بسم اللہ

 

ورفعنا لک ذکرک کی سند لے کے ترا

ذکر تیرے لیے افراز ہوا بسم اللہ

 

جب کوئی نعت لکھی آپ کے منظرؔ نے شہا

سارے عالم سے وہ ممتاز ہوا بسم اللہ

 

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ