مدحِ رسولؐ میں جو ہر گل پرو دیا ہے

مدحِ رسولؐ میں جو ہر گل پرو دیا ہے

ان کا ہی یہ کرم ہے میری مجال کیا ہے

 

بیٹھا ہوں نعت لکھنے الفاظ میں مہک ہے

موتی سے جھڑ رہے ہیں سرکارؐ کی ثنا ہے

 

اے طائرِ مدینہ یہ عرض لے کے جانا

عاصی غلام آنے کا اذن مانگتا ہے

 

حاضر میں ہو تو جاؤں پر خوف ہے برابر

اعمال کا کوئی بھی مجھ کو نہ آسرا ہے

 

روتا بلکتا جاؤں سرکارؐ کو مناؤں

دل کھول کر دکھاؤں کیا کیا مری خطا ہے

 

قسمت پہ اپنی نازاں، ان کے فقیر ہیں ہم

سرکارؐ کا کرم ہے سرکارؐ کی عطا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

حقیقت کُھل گئی نوری سفر میں
صحرا بھی چمکتے ہیں گلزار چمکتے ہیں
زمیں و آسماں روشن مکان و لا مکاں روشن
رنگ لائی مرے دل کی ہر اک صدا لوٹنے زندگی کے خزینے چلا
قلم خوشبو کا مل جائے صحیفہ نعت کا لکھّوں
جو بھی مانگو وہ دیا کرتے ہیں
جب کسی غم نے بے قرار کیا
بُوند خوشبوئے ہوا ہے جو سمندر سے اُٹھے
کیوں نہ قربان ہوں پروانگی ہے، نزدیکی
نعت جاری جب لبوں پر ہوگئی

اشتہارات