اردوئے معلیٰ

مدحِ رسول میں جو ہر گل پرو دیا ہے

ان کا ہی یہ کرم ہے میری مجال کیا ہے

 

بیٹھا ہوں نعت لکھنے الفاظ میں مہک ہے

موتی سے جھڑ رہے ہیں سرکار کی ثنا ہے

 

اے طائرِ مدینہ یہ عرض لے کے جانا

عاصی غلام آنے کا اذن مانگتا ہے

 

حاضر میں ہو تو جاؤں پر خوف ہے برابر

اعمال کا کوئی بھی مجھ کو نہ آسرا ہے

 

روتا بلکتا جاؤں سرکار کو مناؤں

دل کھول کر دکھاؤں کیا کیا مری خطا ہے

 

قسمت پہ اپنی نازاں، ان کے فقیر ہیں ہم

سرکار کا کرم ہے سرکار کی عطا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات