اردوئے معلیٰ

Search

مدینہ تُو جوں جوں قریب آرہا ہے

مرا اوج پر پھر نصیب آرہا ہے

 

او منکر نکیرو ذرا سا توقف

نظر کو جھکاؤ طبیب آرہا ہے

 

میں عاشق ہوں ان کا تو محشر کے دن بھی

کہیں گے غلامِ حبیب آرہا ہے

 

مدینے کی گلیوں پہ رحمت خدا کی

مزہ اک عجیب و غریب آرہا ہے

 

مدینہ میں بخشش کے لینے خزائن

تہی داماں چلتا غریب آرہا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ