اردوئے معلیٰ

مدینے جا کے بھی اب تو مدینہ ڈھونڈتے ہیں لوگ

مجھے جاکر بھی دُکھ ہوگا
مِری نظریں وہاں ڈھونڈیں گی
جب کچے مکانوں کو
نبی ء رحمتِ عالم کے سب اَنمٹ نشانوں کو
کبھی جو دھوپ میں موجود تھے ،اُن سائبانوں کو
بہار ِ بے خزاں کے مسکنوں ، سب گلستانوں کو
درخشندہ مِری تاریخ کے سارے خزانوں کو
حبیب ِ کبریا کے سارے حُجروں ، پنجتن کے آستانوں کو
زمیں پر جو کبھی موجود تھے ، اُن آسمانوں کو
وہاں یہ سب نہیں ہوگا
جو کل تھا، اَب نہیں ہوگا
وہاں عہد ِرسالت کے کہاں آثار باقی ہیں ؟
گئے وقتوں کے گنبد ہیں ،نہ اَب مینار باقی ہیں
وہ تہذیب و تمدن ہے نہ اب اقدار باقی ہیں
نبی کے عہد کے خستہ گلی کوچے نہیں باقی
قدم جو چومتے تھے، سنگریزے بھی نہیں باقی
گزرتے تھے جہاں سے،اب وہ رستے بھی نہیں باقی
وہ منظر اب نہیں باقی
وہ جلوے اب نہیں باقی
مدینہ احمد ِ مرسل نےیثرب کو بنایا تھا
جسے سرکار ِ دوعالم نے خود آکر بسایا تھا
وہ اِک خطہ جسے دست ِ رسالت نے سجایا تھا
اُٹھائی تھی کہیں دیوار، دروازہ بنایا تھا
وہ بستی اب کہاں ہے ؟ اس کا بس اِک نام باقی ہے
بہت کچھ مٹ گیا ہے
اب تو تھوڑا کام باقی ہے
خدا کا شکر کیجے کہ وہاں اِسلام باقی ہے
مدینے میں بھی جاکر اب مدینہ ڈھونڈتے ہیں لوگ
منوں مٹی تلے ہے جو دفینہ ڈھونڈتے ہیں لوگ
سمندر میں اُتر کر اب سفینہ ڈھونڈتے ہیں لوگ
تجلیات ہیں پَر ،طُور ِ سینا ڈھونڈتے ہیں لوگ
بتاؤ کون ہے ،جس نے وراثت چھین لی ہم سے
زمیں کے گوشے گوشے میں تھی جنّت ، چھین لی ہم سے
ہمارے عہد ِ رفتہ کی جلالت چھین لی ہم سے
بھٹک کر رہ گئے، راہ ِ ہدایت چھین لی ہم سے
منافق ہوں گےوہ، خُدّام ایسے ہونہیں سکتے
ہوجب سچی محبت ،کام ایسے ہونہیں سکتے
جواپنوں سے ملیں آلام ایسے ہونہیں سکتے
نہیں دشمن تو پھر اقدام ایسے ہونہیں سکتے
اِنہیں اب جان لو تم بھی
اِنہیں پہچان لو تم بھی
جنہیں سمجھا گیا دریا، وہ نکلے ہیں سراب آخر
جو تھے پردے میں چہرے، ہوگئے ہیں بے نقاب آخر
اِنہیں بھی اپنے کرتوتوں کا دینا ہےحساب آخر
یہیں پر حشر ہوگا، اِن پہ ٹوٹے گا عذاب آخر
کہو اہل ِ محبت سے
پریشانی تو ہے لیکن پریشاں تُم نہیں ہونا
مدینہ سرور ِ کون و مکاں کا میرے اندر ہے
مدینہ ہر محّب ِ پنجتن کو بھی میسر ہے
مدینہ چاہنے والوں کا دِل، ان کا مقدّر ہے
ہراِک گھر میں ہیں ان کے نام لیوا
یوں مدینہ اب بھی گھر گھر ہے
مدینہ خاک ہوجائے ، یہ سوچا جانہیں سکتا
مدینے میں مدینہ سچ ہے دیکھا جانہیں سکتا
مگر سچ بات یہ بھی ہے
مدینہ پھر مدینہ ہے
نبی کے لمس کی خوشبو کامسکن ہے، خزینہ ہے
مدینہ تاج ِ دوعالم کااِک یکتا نگینہ ہے
مدینہ قبلہ گاہ ِ اہل ِ ایماں ، مرکز ِ شاہ ِ مدینہ ہے
مدینے کی یقیناً مرتبت، عزت نبی سے ہے
نبیء حق سے نسبت اس کی ہے، عظمت نبی سے ہے
ملی ہے ہم کو یہ دُنیا میں جو جنّت ، نبی سے ہے
میں اس جنّت سے رشتہ اپنا کیسے توڑ سکتا ہوں؟
میں جنّت سے بھلا رُخ اپنا کیسے موڑ سکتا ہوں؟
دُکھی ہولوں گا پَرکب میں مدینہ چھوڑ سکتاہوں
مدینے میں بھی جا ؤں گا
مدینے میں بھی جا ؤں گا
وہاں ہر دو جہاں کے سید و سردار تو ہوں گے
مجھے بھی سبز گنبد کے وہاں دیدار تو ہوں گے
مزار ِ سید ِ لولاک کےانوار تو ہوں گے
حضوری حاضری تو ہوسکے گی آستانے پر
ملیں گی نعمتیں سجدے سے اپنا سراُٹھانے پر
سلام ِ عاجزانہ ہوسکے گا قُرب پانے پر
یقیناً ہوگا تَب دست ِ رسالت میرے شانے پر
وضو کرلیں گی جب آنکھیں زیارت کرسکوں گا میں
بہاکر نِیراظہار ِ عقیدت کرسکوں گا میں
بیاں پھر ان سے اپنے دل کی حالت کرسکوں گا میں
میں دامان ِ نظر میں سب حسیں جلووں کو بھر لوں گا
یہاں ممکن نہیں جو کام ، میں وہ جاکے کرلوں گا
مقدّر مجھ سے کہتا ہے کہ میں بھی بن سنور لوں گا
مدینے جا ؤں گا روضے پہ میری حاضری ہوگی
مِرے ایمان کی یہ بھی نئی اِک زندگی ہوگی
فضا میں ان کے ہر اِک سانس کی خوشبو بسی ہوگی
اَماوس میں بھی یادوں کی یقیناً چاندنی ہوگی
اندھیرے دور ہوں گے اور میسر روشنی ہوگی
نبیء پاک سے قائم نئی وابستگی ہوگی
مِرے جیون میں ہے جو دور بے شک ، وہ کمی ہوگی
خدا کی مہربانی سے زیارت آپ کی ہوگی
یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ