اردوئے معلیٰ

مدینے میں منظر یہ دیکھا بہت ہے

جو ذرہ بھی دیکھو چمکتا بہت ہے

 

تمہیں گھومنا ہو جہاں، جا کے گھومو

ہمارے لیے تو مدینہ بہت ہے

 

پرندہ سماعت کا چہکے نہ کیونکر

تری بزم مدحت میں بیٹھا بہت ہے

 

شہ دوسرا کی محبت کے بدلے!

یہ دنیا کا سودا تو مہنگا بہت ہے

 

وہ بادل کا ٹکڑا بہاروں کو بھایا

جو ہجر مدینہ میں رویا بہت ہے

 

مدینے کی خوشبو سے مہکائے سانسیں

کرم مجھ پہ باد صبا کا بہت ہے

 

در مصطفےٰ پر جو حاصل ہو یاور

ندامت کے دریا کا قطرہ بہت ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات