اردوئے معلیٰ

مدینے کی طرف جب میرا مستانہ سفر ہوگا

مری دنیا نئی ہو گی مرا عالم نیا ہوگا

 

فغاں مقبول ہوگی نالہ ممنونِ اثر ہوگا

مسافر موردِ الطاف ِشاہِ بحر و بر ہوگا

 

تعالی اللہ صحرائے مدینہ میں سفر ہوگا

جنون آزادِ قیدو بندشِ دیوار و در ہوگا

 

جنوں ہی جادۂ منزل جنوں ہی رہبر ہوگا

جنوں ہی نغمہ خواں ،افسانہ خواں ۔، شام و سحر ہوگا

 

زہے قسمت کہ سارا وقت مستی میں بسر ہوگا

جہانِ ہوش سے دیوانہ اُن کا بے خبر ہوگا

 

جہاں بھی جس جگہ بھی عشق خواجہ جلوہ گر ہوگا

وہاں ساراس نظام آگہی زیر و زبر ہوگا

 

توقع ہے کہ دامن خون کے اشکوں سے تر ہوگا

توقع ہے کہ حال ِزار شایانِ نظر ہوگا

 

نظر کے سامنے جب روضۂ خیر البشر ہو گا

بس اک آئینہ اور آئینہ گر ہوگا

 

رہے گی چپ زباں ،غم کا بیاں با چشم تر ہوگا

ملا اذنِ حضوری تو فسانہ مختصر ہوگا

 

شہنشاہوں سے رتبہ مجھ گدا کا بیش تر ہوگا

ہر اک اشک فروزاں غیرت ِ لعل و گہر ہوگا

 

جمالِ مصطفیٰ تسکین دہِ قلب و نظر ہوگا

تجلی گاہ،میرا چاک دل ،چاک جگر ہوگا

 

وہ عالم بھی عجب مسحور کن دیوانہ گر ہوگا

سرسودا زدہ ہوگا اور ان کا سنگ درہوگا

 

جبیں پر نور ہوگی جلوہ معراج نظر ہوگا

کہ ہر سجدہ حریم ناز کی دہلیز پر ہوگا

 

دعائیں جتنی مانگی ہیں وہ خواجہ کی نظر میں ہیں

مری جھولی میں اُن رنگیں دعاؤں کا ثمر ہوگا

 

بہے ہیں اشک جتنے اضطراب شوق میں برسوں

اُن اشکوں کا فسانۂ شاہ کے پیش نظر ہوگا

 

حضوری میں تو لب بھی نہ ہلنے پائیں گے مظہر

کرم خواجہ کا ہوگا اور طلب سے بیش تر ہوگا

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے۔۔۔

حالیہ اشاعتیں

اشتہارات

اشتہارات