مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو

مدینے کی فضاؤں میں بکھر جائیں تو اچھا ہو

ہم اپنی موت کو حیران کر جائیں تو اچھا ہو

 

نہیں ہے حوصلہ روضہ تمہارا تکتے رہنے کا

جنوں کہتا ہے تکتے تکتے مر جائیں تو اچھا ہو

 

مری نم ناک آنکھوں کا یہی اب تو تقاضہ ہے

تمہارے پیار کی حد سے گزر جائیں تو اچھا ہو

 

جو ٹھنڈی ٹھنڈی آہیں میرے سینے میں مہکتی ہیں

وہ اوروں کے دلوں میں بھی اتر جائیں تو اچھا ہو

 

جسے سنتے ہی دل سرشار ہوں عشقِ محمد سے

رقم ایسی کوئی ہم نعت کر جائیں تو اچھا ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ