مدینے کی ہوائیں آ رہی ہیں

مدینے کی ہوائیں آ رہی ہیں

مہکنے پر فضائیں آ رہی ہیں

 

جو ہم نے گنبد خضریٰ کو دیکھا

زبانوں پر دعائیں آ رہی ہیں

 

طفیلِ مصطفی جو مانگتے ہیں

انہیں رب کی عطائیں آ رہی ہیں

 

درود اب پڑھ رہے ہیں ہم فدائی

بڑی شیریں صدائیں آ رہی ہیں

 

فداؔ عشقِ محمد کا ہے صدقہ

جو جنت کی ہوائیں آ رہی ہیں

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

قرآنِ مقدس میں فرمودۂ رب دیکھا
جس نے سرکارِ دو عالم کا زمانہ دیکھا
نگاہِ لطفِ رب میری طرف ہے
رہتے ہیں مرے دل میں ارمان مدینے کے
ذرۂ ناچیز کیا یہ وہ شہِ عالم کہاں
یا صاحب الجمال و یا سیدالبشر
نعمتیں بانٹتا جس سمت وہ ذیشان گیا
رات رو رو کے جو دعا مانگی
پُل سے اتارو راہ گزر کو خبر نہ ہو
مصطفیٰ خیرُ الوریٰ ہو

اشتہارات