اردوئے معلیٰ

Search

مراست خانہ بیابان و دل ز خوں دریا

تو عشق بیں کہ مرا میرِ بحر و بر دارد

 

بیابان میرا گھر ہے اور اور دل خون ہو کر

دریا بنا ہوا ہے تُو عشق (کی کرشمہ

سازی و نیرنگی) دیکھ کہ اُس نے مجھے بحر و بر

(تری اور خشکی، دریا اور بیابان) کا امیر بنا رکھا ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ