اردوئے معلیٰ

Search

مرا جو سرور و سلطان سے تعلق ہے

حقیقتاً یہی رحمٰن سے تعلق ہے

 

بلندیِ شہ گردوں سے ہیں کہاں واقف

وہ جن کا عالَمِ امکان سے تعلق ہے

 

میں صحنِ خلد کا اِس واسطے بھی ہوں شیدا

اسے مدینے کے بُستان سے تعلق ہے

 

فراق طیبہ میں آنسو یونہی نہیں گرتے

اس اضطراب کا وجدان سے تعلق ہے

 

گدائے کوچۂ خیر البشر ہوں بچپن سے

ہے واسطہ مرا ایمان سے‘ تعلق ہے

 

عیاں یہ ہوتا ہے ’’والیل‘‘ اور ’’کوثر‘‘ ہے

ثنائے شاہ کو قرآن سے تعلق ہے

 

براہِ راست اسی غم گسارِ عالَم کو

ہر ایک قلب پریشان سے تعلق ہے

 

حدیثِ حضرت جبریل میں تصوف ہے

مرے بیان کا ’’احسان‘‘ سے تعلق ہے

 

ہم اہلِ مدحت خیر البشر کا آپس میں

سنو! الست کے اعلان سے تعلق ہے

 

نہیں ہے دارا و جمشید سے کوئی نسبت

ہمارا بوذر و سلمان سے تعلق ہے

 

وہ نظم قابلِ توقیر ہے خدا کی قسم

وہ جس کا نعت کے عنوان سے تعلق ہے

 

اُس ایک لفظ پہ قرباں جہانِ شعر و سخن

وہ جس کا نعت کے دیوان سے تعلق ہے

 

میں سربلند کچھ اس واسطے بھی ہوں ازہرؔ

مرا قبیلۂ حسّان سے تعلق ہے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ