مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو

مرہموں کی صورت میں زہر بھی ملے ہم کو

نشتروں کے دھوکے میں وار بھی ہوئے اکثر

منزلوں کی لالچ میں راستے گنوا ڈالے

رہبروں کی چاہت میں خوار بھی ہوئے اکثر

 

ہر فریب تازہ کومسکرا کے دیکھا تھا

دل کو عہدِ رفتہ کے طور ابھی نہیں بھولے

چشم خوش گماں گرچہ تیرگی میں الجھی تھی

خواب دیکھنا لیکن ہم کبھی نہیں بھولے

 

چُور ہو گئے بازو اک نبرد پیہم سے

دامن رواداری ہاتھ سے نہیں چھوڑا

اک بھرم رہا جب تک اِس سفید پوشی کا

درد کی امانت سے ہم نے منہ نہیں موڑا

 

سنگِ رہ گوارا تھے، ہر سراب تھا منظور

رہزنوں سے تنگ آ کر راستے بدل ڈالے

یوں نہیں کہ کھو بیٹھے ہم یقین منزل کو

بس وہاں رسائی کے واسطے بدل ڈالے

 

دشتِ ترکِ الفت سے ہجر نے پکارا تھا

ہم تمام زنجیریں توڑ کر چلے آئے

کاروبارِ نقدِ جاں، داستانِ حسن و عشق

سب کو درمیاں میں ہم چھوڑ کر چلے آئے

 

کسبِ نان سادہ میں دن کو کر لیا مصروف

شام ہم نے کر ڈالی وقفِ یادِ دلداراں

دل کو رکھ دیا ہم نے رہنِ آشنا دشمن

دھڑکنیں کسے کرتے نذر بعد دلداراں

 

اک تضادِ جسم و جاں ہے دیارِ ہجرت میں

کوبکو ہیں سرگرداں، موسموں کو گنتے ہیں

ہر نئے مسیحا سے باندھ کر امیدیں ہم

عہدِ زخم داری میں مرہموں کو گنتے ہیں

 

تہمتیں سہی ہم پر ہاں گریز پاِئی کی

سست گام ہیں مانا، پر سفر تو جاری ہے

ہاں نہیں رہے شامل کارواں میں ہم، لیکن

مرکزِ یقیں اب بھی آرزو ہماری ہے

 

دامنِ وفا گرچہ دھجیاں ہوا کب کا

جسم سے یہ پیراہن نوچ بھی نہیں سکتے

ہم جہاں نوردوں میں لاکھ عیب ہیں لیکن

گھر سے بے وفائی کا سوچ بھی نہیں سکتے

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ