مریضِ جاں بلب ہو، لادوا ہو

مریضِ جاں بلب ہو، لادوا ہو

درِ سرکارؐ پر آئے، شفا ہو

 

وہ سجدہ انتہائے بندگی ہے

جو سجدہ آپؐ کے در پر ادا ہو

 

ہمیشہ کامگار و کامراں ہو

درِ سرکارؐ کا جو بھی گدا ہو

 

یہی عُشاق کے دِل کی صدا ہے

فروغِ نعت ہو، حمد و ثنا ہو

 

حوالہ آپؐ عفو و درگزر کا

معافی دیں گے، ہم سے گر خطا ہو

 

سگِ در پہ بھی اِک نگہِ محبت

نگاہِ مُلتفِت بہرِ خُدا ہو

 

وہی تقدیرِ اِنساں، امرِ ربی

ظفرؔ جو بھی رضائے مصطفیؐ ہو

یہ نگارش اپنے دوست احباب سے شریک کیجیے
Share on facebook
Share on twitter
Share on whatsapp
Share on telegram
Share on email

اشتہارات

لُطفِ سُخن کچھ اس سے زیادہ

اردوئے معلیٰ

پر

خوش آمدید!

گوشے

متعلقہ اشاعتیں

محمد مصطفیٰ سالارِ دیں ہیں
سوچتے سوچتے جب سوچ اُدھر جاتی ہے
وہ جو قرآن ہو گیا ہوگا
کوئی مثل مصطفیٰ کا کبھی تھا نہ ہے نہ ہوگا
آخری عکس
رکھا بے عیب اللہ نے محمد کا نسب نامہ​
حقیقت میں تو اس دنیا کی جو یہ شان و شوکت ہے
نبی کی نعت پڑھتا ہوں کہ ہے یہ دل کشی میری
ذاتِ والا پہ بار بار درود
نہ ہو آرام جس بیمار کو سارے زمانے سے

اشتہارات